ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 112 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 112

١١٢ آخری درخت جوسب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف اور سب سے بڑا اور سب سے زیادہ پھلدار تھا نصب کیا۔لیکن ایک عرصہ کے بعد اس آخری درخت کی جڑوں میں سے اسی کی ایک اور شاخ پھوٹ آئی جو اُسی کا حصہ اور اُسی کا بچہ تھی۔تو کیا اس صورت میں اس شاخ کی وجہ سے اس درخت کا آخری ہونا باطل ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔بلکہ اس شاخ کے باوجود اصل درخت ہی آخری درخت سمجھا جائے گا نہ کہ یہ شاخ جو اُسی کا حصہ اور اسی کے ساتھ پیوست ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہمارے مخالف اصحاب تھوڑی سی توجہ دے کر اس چھوٹے سے نکتہ کو سمجھ لیں تو یہ سارا مسئلہ جو انہوں نے اپنی کج بحثی سے ایک گورکھ دھندا بنا رکھا ہے نصف النہار کی طرح روشن ہو کر ہمارے سامنے آ جائے گا اور کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا۔آخری نبی اور آخری مسجد مگر اس معاملہ میں بھی ہمیں اپنی طرف سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خود ہمارے آقا (فدا فسی) نے اس حدیث کی ایسی تشریح فرما دی ہے جس کے بعد کسی مزید وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔یہ حدیث جس میں ائی آخر الانبیاء کے الفاظ آتے ہیں اپنی مکمل ترین اور صحیح ترین صورت میں صحیح مسلم میں بیان ہوئی ہے۔چنا نچہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔إلى آخر الانبياء وإن مسجدی آخر المساجد۔(صحیح مسلم باب فضل الصلاة في مسجد المدينة ) یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری یہ ( مدینہ والی ) مسجد آخری مسجد ہے۔“