ختم نبوت کی حقیقت — Page 103
۱۰۳ خاتم الانبیاء ہیں۔مگر یہ نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اللہ اللہ ! ہماری مادر مشفق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خیال کہاں پہنچا ہے جس کی گرد کو بھی آج کا مولوی نہیں پاسکتا۔فرماتی ہیں اور کس لطیف انداز میں فرماتی ہیں کہ حدیث لا نبی بعدی کے معنی سمجھنے میں جلد بازلوگوں کو غلطی لگ سکتی ہے۔اور وہ اس کی تہہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے یہ گمان کر سکتے ہیں کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہو چکا ہے اس لئے تم آئے مسلما نو اس ٹھوکر سے بچنا اور لا نبی بعدی کی حدیث کی بجائے آیت خاتم النبین کی طرف نگاہ رکھنا۔کیونکہ اس میں ساری حقیقت کا خلاصہ آ گیا ہے۔ظاہر ہے کہ امکانی طور پر حدیث لا نبی بعدی کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں۔ایک وہ جو ہمارے مخالف کرتے ہیں یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہو چکا ہے اور دوسرے وہ معنی جو ہم کرتے ہیں۔یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے دورِ نبوت کو منسوخ کرنے والا نبی نہیں آسکتا۔مگر آپ کی اتباع اور شاگردی میں آپ کی مُہر تصدیق کے ساتھ ظلی اور امتی نبی آسکتا ہے۔اور یہ بعینہ وہی مفہوم ہے جو آیت خاتم النبین میں بیان ہوا ہے۔جس کے متعلق ہم اُو پر بحث کر آئے ہیں۔اب دیکھو کہ ہماری مادر مشفق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کسی وضاحت اور کس لطافت کے ساتھ ہمارے معنوں کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگو! تم لا نبی بعدی کی حدیث کے الفاظ سے غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہو۔اس لئے اسکی جگہ آیت خاتم النبین کے مفہوم کو مد نظر رکھو تا ٹھوکر سے بچے رہو۔اور آیت خاتم النبیین کا مفہوم کیا ہے؟ یہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی مہر ہیں۔آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت یا مستقل نبی نہیں آ سکتا۔