ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 100 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 100

دونوں آگے پیچھے ہوں۔اس صورت میں حدیث لانبی بعدی کے یہ معنی ہوں گے کہ میرا زمانہ گزرنے کے بعد کوئی اور نبی نہیں۔“ اب دیکھو کہ یہ معنی بھی کتنے صاف اور کتنے واضح ہیں۔کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کے زمانہ کو ختم کر کے نیا دور شروع کر دے۔اور اس لحاظ سے بھی قطعا کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم ایک دائی شریعت لے کر مبعوث ہوئے تھے اور آپ کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے جیسا کہ آپ نے بار بار صراحت فرمائی ہے حتی کہ ایک موقع پر آپ نے اپنا دست مبارک اُٹھا کر اور اس کی دو انگلیاں باہم ملا کر تاکید کے رنگ میں فرمایا کہ:۔دو بُعِثْتُ آنَاوَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ - (بخاری کتاب التفسیر تفسیر سوره نازعات ) یعنی میں اور قیامت اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جس طرح کہ میرے ہاتھ کی یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔اور اُن کے درمیان کوئی رخنہ نہیں۔“ رسول پاک کی نبوت کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔سو جب آپ کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے تو لازما ظرف زمانی کی صورت میں لا نبی بعدی کے یہی معنی لئے جائیں گے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو میرے زمانہ کو ختم کر کے کسی نئے دور کی بنیا درکھ دے کیونکہ میرا زمانہ قیامت تک ہے۔افسوس صد افسوس کہ ہمارے مخالفین اپنی کوتاہ نظری سے بعدی کے مفہوم کو بلا وجہ آنحضرت