ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 99 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 99

۹۹ کے سفر میں اُن کے بعد ایک نبی قائم مقام بنا تھا۔مگر میں اس سفر میں اپنے بعد کسی کو نبی نہیں چھوڑ رہا۔اس حدیث میں بعد کا لفظ صریح طور پر ظرف مکانی کی صورت میں استعمال ہوا ہے اور مطلب بھی واضح ہے کہ اس جگہ صرف حضرت علی کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ میں ٹھہرے تھے غیر نبی قرار دیا گیا ہے۔لیکن چونکہ یہ حدیث صرف ایک منفرد اور مخصوص واقعہ کے متعلق ہے اور لا نبی بعدی کے الفاظ اس کے علاوہ بعض دوسری حدیثوں میں کسی خاص واقعہ کے تعلق کے بغیر بھی آئے ہیں اس لئے مجھے اس مخصوص حدیث کی بحث میں جانے اور اس کی آڑ لینے کی ضرورت نہیں۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس مخصوص واقعہ کے علاوہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جگہ لا نبی بعدی یا اس سے ملتے جلتے الفاظ فرمائے ہیں۔اور ہماری اصل بحث انہی عام مواقع کے ساتھ تعلق رکھتی ہے نہ کہ حضرت علی والے مخصوص واقعہ کے ساتھ۔دوسرے معنی بعد کے لفظ کے یہ ہیں کہ ایک بات چھوڑ کر کسی دوسری بات کو اختیار کیا جائے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ قباتِي حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ ( یعنی لوگ خدا اور اس کی آیات کو چھوڑ کر کس حدیث کو مانیں گے؟ ) ان معنوں کے لحاظ سے بھی حدیث لا نبی بعدی کا مطلب بالکل صاف ہے کیونکہ اس صورت میں اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میری شریعت کو چھوڑ کر اور اسے منسوخ کر کے کوئی اور شریعت لائے بلکہ جو بھی آئے گا میرا تابع اور میری شریعت کا خادم ہو کر آئے گا اور میرے جھنڈے کے نیچے ہوگا۔تیسرے معنی بعد کے جو ظرف زمانی سے تعلق رکھتے ہیں یہ ہیں کہ ایک چیز کے گزر جانے اور اس کا زمانہ ختم ہو جانے کے بعد دوسری چیز ظاہر ہو۔یعنی وقت کے لحاظ سے