ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 98 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 98

استعمال ہوتا ہے:۔۹۸ اوّل ظرف مکافی کے لحاظ سے بعد کا استعمال۔اس صورت میں بعد کے معنی پیچھے کے ہوتے ہیں۔جس طرح کہ مثلاً ایک عمارت کے پیچھے یعنی اس کے عقب میں دوسری عمارت ہوتی ہے۔دوم ظرف مکانی ہی کی دوسری صورت وہ ہے جس میں بعد کا لفظ استعارہ کے طور پر ” مقابل“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یعنی ایک چیز کو چھوڑ کر اور گویا اس سے آگے گزر کر کسی ایسی دوسری چیز کو اختیار کیا جائے جو اس کے پیچھے ہے۔جیسے کہ مثلاً قرآن مجید فرماتا ہے کہ فَبِأَتِي حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ یعنی خدا اور اس کی آیات کے بعد ( یعنی انہیں چھوڑ کر یا ان کے مقابل پر ) لوگ کس حدیث کو مانیں گے؟ سوم زمانہ کے لحاظ سے بعد کا استعمال جسے عربی زبان میں ظرف زمانی کہتے ہیں۔جس طرح مثلاً ایک چیز کے گزر جانے اور اس کا زمانہ ختم ہو جانے کے بعد دوسری چیز آتی ہے۔یہ تینوں معنی لغت عربی اور محاورہ زبان کی رُو سے قطعی طور پر ثابت ہیں۔اور کوئی شخص ان کے انکار کی جرات نہیں کر سکتا۔سو اس جگہ پہلے معنی کی بحث میں تو ہمیں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ، کیونکہ جہاں تک موجودہ بحث کا تعلق ہے یہ معنی صرف ایک مخصوص حدیث سے تعلق رکھتے ہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سفر پر جاتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تم اس سفر میں میرے لئے ہارون کی طرح ہو۔( یعنی جس طرح حضرت موسیٰ اپنے ایک سفر میں اپنے بعد ہارون نبی کو چھوڑ گئے تھے اسی طرح میں تمہیں اس سفر میں اپنے پیچھے چھوڑ رہا ہوں ) غیر انه لا نبی بعدی مگر فرق یہ ہے کہ موسیٰ