ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 74 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 74

۷۴ میرے اور مسیح موعود کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آسکتا۔گویا ایک طرف آپ نے مسیح موعود کے دعوی کی تصدیق فرما دی اور دوسری طرف اُمت کو ہوشیار کر دیا کہ اگر مسیح موعود سے پہلے کوئی شخص نبوت کا مدعی پیدا ہو تو وہ دجال اور کذاب ہے اُسے ہرگز نہ قبول کرنا۔بہر حال یہ حدیث کھلے الفاظ میں اعلان کر رہی ہے کہ مسیح موعود خُدا کا نبی ہوگا۔وھو المُراد۔یہ حدیث یقیناً آنے والے مسیح کے متعلق ہے! اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ شاید اس حدیث میں مسیح ناصری یعنی عیسی علیہ السلام کا ذکر ہو نہ کہ آنے والے مسیح موعود کا تو یہ ایک بالکل مجنونانہ خیال ہوگا کیونکہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاف الفاظ میں فرمار ہے ہیں کہ :۔انه نازل یعنی لوگو میں یہاں گذشتہ مسیح کا ذکر نہیں کر رہا بلکہ اس مسیح کا ذکر کر رہا ہوں جو آئندہ آنے والا ہے۔“ اس صریح اور واضح ارشاد کے ہوتے ہوئے یہ شبہ کرنا کہ یہاں گذشتہ مسیح کا ذکر ہے کسی عظمند انسان کا کام نہیں۔علاوہ ازیں اس حدیث میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ یقاتل الناس على الاسلام یعنی آنے والا مسیح اسلام کے اُس دور میں آئے گا جب کہ اسلام پر دوسرے مذاہب کے حملے ہور ہے ہو نگے۔اور وہ اسلام کی تائید میں دوسرے مذاہب کے ساتھ مقابلہ کریگا۔اور پھر یہ الفاظ آتے ہیں کہ فیدقی الصلیب ” یعنی یہ ربانی مصلح مسیحی مذہب کے زور کے وقت میں ظاہر ہو کر صلیبی عقائد کو پاش پاش کر دیگا۔یہ دو فقرے اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ یہاں محمد سہی سلسلہ کے آنے والے مسیح موعود کا ذکر ہے نہ کہ موسوی