ختم نبوت کی حقیقت — Page 70
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا۔۔وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا علم (سورۃ جمعہ آیت ۳ ، ۴) یعنی خدا نے عربوں میں اپنا ایک رسول بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ ایک بعد میں آنے والی قوم میں بھی جو انہی کے ساتھ کی ہے اُس رسول کو (اس کے ایک ظل اور بروز کے ذریعہ ) دوبارہ ظاہر فرمائے گا۔“ اب دیکھو کہ اس آیت میں کس طرح صرف صحابہ کرام کی مشابہت کے ذکر پر اکتفا کر کے ایک بروز محمد سی کے ظہور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔بعینہ اسی طرح حدیث زیر نظر میں اسلام کے آخری دور کے بیان میں نبوت کے ذکر کو لفظا ترک کر کے صرف خلافت علی منہاج النبوۃ کے اشارہ پر اکتفا کیا گیا ہے تا آیت اخَرِينَ مِنْہم کی طرح لوگوں کی تو جہ اس لطیف حقیقت کی طرف مبذول کرائی جائے کہ آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا نبی کوئی علیحدہ نبی نہیں ہوگا۔بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا خادم اور آپ ہی کا شاگرد اور آپ ہی کا ظل ہوگا۔کیونکہ خاتم النبیین کے ظہور کے بعد دُنیائے دین میں کسی غیر کے لئے گنجائش باقی نہیں رہی۔بلکہ اب صرف ہاں سچ مچ صرف محمد رسول اللہ ہی کا دور دورہ ہے اور آپ کے بعد جو بھی آئے گا خواہ وہ نبوت کے کمال کو پہنچے وہ بہر حال محمد رسول اللہ کا خوشہ چین اور آپ کا خادم اور آپ کے ٹور سے ٹور پانے والا اور آپ کا ظل ہوگا نہ کہ کوئی مستقل نبی۔دیکھو چودھویں رات کا چاند کتنا پیارا اور کتنا دلکش اور کتنا روشن نظر آتا ہے مگر اُس کی روشنی سورج کی روشنی کا حصہ اور اس کا عکس ہوتی ہے نہ کہ اپنی ذات میں مستقل روشنی۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود اپنے