ختم نبوت کی حقیقت — Page 140
۱۴۰ کلمہ طیبہ یعنی لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہے۔پس جو شخص بھی اس کلمہ پر ایمان لاتا ہے اور خدا کو ایک سمجھتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کرتا ہے وہ اسلام کی ظاہری تعریف کے لحاظ سے مسلمان کہلانے اور امت محمدیہ کا فرد سمجھے جانے کا حقدار ہو جاتا ہے۔باقی باتیں تکمیل دین اور حقیقت باطنی سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں اسلام کی ظاہری حد حد بندی سے کوئی تعلق نہیں۔پس ایک کلمہ گو خواہ وہ کوئی ہو اور کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو سیاسی حقوق کے لحاظ سے مسلمان سمجھا جائے گا۔گو اُ سے اس کے دیگر دینی نقائص اور خامیوں کی وجہ سے کامل یا حقیقی مسلمان نہ سمجھا جائے۔یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہوتی ہے۔اور اسی کے مطابق اسلام کا ظاہری اور سیاسی نظام قائم کیا گیا ہے۔اسی لئے ابتدائی مسلمانوں نے بلکہ ہر زمانہ کے محقق علماء نے ختم نبوت کے عقیدہ کی بحث میں پڑنے کے بغیر اسلام کی ظاہری حد بندی صرف کلمہ طیبہ قرار دی ہے۔اور اس معاملہ میں دُوسری باتوں کو قطعا مؤثر نہیں گردانا۔اور یہی وجہ ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں جہاں اسلام کی ظاہری تشریح یا تعریف فرمائی ہے وہاں صرف کلمہ طیبہ لا اله إلا الله محمد رسول اللہ کو اسلام کا مرکزی نقطہ قرار دیا ہے۔اور اس کی تفصیل میں ملائکہ اللہ اور کتب سماوی اور سلسلہ رسل اور بعث بعد الموت اور تقدیر خیر وشر کے فی الجملہ ذکر پر اکتفا فرمایا ہے۔اور ختم نبوت کا ذکر نہیں کیا۔گو بہر حال قرآنی ارشاد کے ماتحت ہر سچا مسلمان ختم نبوت کے عقیدہ پر دل و جان سے ایمان لاتا ہے۔یہ ایک خاص نکتہ ہے جو ہمارے سب دوستوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے۔