آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک

by Other Authors

Page 4 of 56

آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 4

حبب مخالفین جماعت کے سامنے حضرت مسیح موجود کی یہ عبارت پیش کی جاتی ہے تو وہ یہ غلط تاثر دینے کی کوشش که به اقرار محض لفظی ہے ورنہ عملاً جب مرزا صاحبہ کا راستہ کھول دیا خواہ اُسے اُمتی نبوت کہیں یا ظلی۔تو آیت خاتم النبیین کا انکار لازم آگیا۔وہ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے اتنی نبی اور کی نہیں کی اصطلاحیں بنا کر نبوت جاری رکھنے کی نئی کھڑکیاں کھولی ہیں جبکہ پہلے بزرگان اسلام نبوت کو مطلقاً بند مانتے تھے اور کسی قسم کی نبوت کے بھی جاری رہنے نے کے قائل نہ تھے لیکن اد نے سی تحقیق پر اہل انصاف پر یشن ہو جائے گا کہ یہ الزام بھی محض بودا اور بے بنیاد ہے اور حقیقت سے اس کو دُور کا بھی تعلق نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ آیت خاتم النبین کی وہی تشریح ہے جو گذشتہ صلحائے امت اور علماء زبانی کرنے جیسے آئے ہیں۔اور ان کے مسلک سے مہٹ کہ کوئی نیا مسلک اختیار نہیں کیا گیا۔نیا مسلک تو خود ان مخالفین احمدیت نے اختیار کیا ہے جو جماعت پر یہ الزام لگاتے ہیں۔فیصلہ کا ایک نہایت آسان اور عام تم طریق اختیار کرتے ہوئے ہم حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بعض ایسے اقتباسات کے ساتھ بین کی بناء نے آپ پر کفر کا فتوی الگایا بعض دوسرے مختلف فرقہ ہائے مہ سے تعلق رکھنے والے مسلمہ بزرگان اسلام اور اولیاء و اقطاب کے ساسات بھی پیش کر رہے ہیں۔جن کے موازنہ سے صاف نہینہ میں پتہ چل جائیگا هداء محمد