آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک

by Other Authors

Page 22 of 56

آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 22

مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی (متوتی ۱۹ ، فرماتے ہیں :- عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ کو میں آخری نبی ہیں۔مگر اہل ختم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام ملح ہیں ولكن رسُول الله وخاتم النبین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کیے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خانمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی نے د تحذیر الناس صت ) نوٹ : خط کشیدہ الفاظ خاص توجہ سے پڑھنے کے لائق ہیں۔وہ کیا فرق ہے جو عوام اور اہل قسم کے مذہب میں ہے اور اہل اسلام کو کیا بات گوارا نہیں ہے موازنہ فرمائیے کہ جماعت احمدیہ کا مذہب اہل فہم اور اہل اسلام والا ہے یا مخالفین جماعت کا ؟ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی فرماتے ہیں :- اگر خانمیت معنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت کیجئے۔جیسا کہ اس بیچمیدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ صلعم اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبوی صلعم