بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 58 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 58

نیا کی تشریح میں نبی سے مراد تشریعی نبی نے کر اُن کے نبی ہو جانے کو متنع قرار دیا گیا ہے۔اگر حدیث ہذا میں نبی سے مراد تشریعی نبی لیا بھائے تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ان کا اس صورت میں نہی ہو جانا واقعی حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہوتا۔یہ توجیہ موضوعات کبیر میں بھی درج ہے مگر ہم نے اپنے پمفلٹ میں اس حدیث کی دوسری توجیہ درج کی تھی جو انہوں نے موضوعات کبیر میں ان الفاظ میں لکھی ہے :- لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَصَارَ نَبِيَّا وَ كَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِن انباعِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَعِيسَى وَخضَرَ وَ الْيَاسَ ( موضوعات کبیر صفحه ۵۸) : اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نہی ہو جاتے اور اسی طرح حضرت عمر نبی ہو جاتے تو وہ دو تو آپ کے متبعین میں سے ہوتے جیسا کہ عیسی ، خضر اور الیاس آنحضرت کے متبع سمجھے جاتے ہیں۔پھر اس سوال کو ملحوظ رکھ کر کہ اگر یہ نبی ہو جاتے تو آیا ان کا نبی ہو جانا خدا تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا تو اس کا یہ جواب دیا ہے :- فَلَا يناقض قَوْلَهُ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذَ المعنى انه لديات نبي تحدة يُنْسَهُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُن مِنْ أُمَّته " لا ( موضوعات کبیر مه) یعنی زندہ رہنے کی صورت میں ان کا نبی ہو جانا خدا کے قول خاتم النبیین کے اس لئے خلاف نہ ہوتا کہ خاتم