بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 55 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 55

۵۵ اعر اب بھی دیتے ہیں اور دانستہ ایک جگہ ترجمہ بھی چھوڑ دیا ہے۔چنانچہ انہوں نے خیبک انمار کا ترجمہ چھوڑ دیا ہے۔یہ انہوں نے نا دانستہ نہیں کیا۔کیونکہ اگر وہ اس عبادت کا ترجمہ کرتے ہوئے فیهِ اینکار راس میں اشارہ ہے، کا ترجمہ کردیتے تو پھر ظاہر ہو جاتا کہ یہ عبارت وہ ادھوری پیش کر رہے ہیں۔اس لئے پردہ دری کے خون سے انہوں نے فیه ایجاد کا ترجمہ حذف کر دیا۔اصل بات یہ ہے کہ فیه ایمائی میں فیه کی ضمیر کا مرجع حدیث الا ترضى يَا عَلَى أَنتَ مِنَى بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا انَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِی کا فقرہ لا نَبِيَّ بَعْدِی ہے۔اور امام موصوف اس جیگر مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ان لوگوں کی تردید کر رہے ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ بعد نزول حضر عیسی علیہ السلام حدیثہ ہذا کے الفاظ لا نبی بعدی کی وجہ سے نبی نہیں ہوں گے بلکہ محض امتی ہوں گے۔امام علی القاری اس خیال کی تردید میں فرماتے ہیں : لا منافاة بين ان يكون حضرت معینی کے نبی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ نَبِيَّاد يكون متابعا لنبينا علیہ وسلم کے تابع ہونے میں کوئی منافات نہیں۔اس يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی صورت میں کہ وہ آپ کی شریعیت کے احکام بیان کریں بَيَاتِ احکامِ شریعتِه وَالْعانِ اور اس شریعیت کی طریقت کو پختہ کریں۔خواہ وہ اپنی طَرِيقَتِهِ وَلَوْ بِالْوَي ولی سے ایسا کریں جیسا کہ اس کی طرف حدیث لو اليومَا يُشيرُ كان مومی الو (اگر موسی زندہ ہوتے تو إلَيْهِ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہیں میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ مُوسَى، ہوتا اشارہ کر رہی ہے۔مراد