بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 54 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 54

۵۴ لا يَحْدُثُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو ثبوت لانصات البيين السابقين نہیں مل سکتی کیونکہ آپ پہلے نبیوں کے ختم کرنیوالے النَّبِيِّينَ السَّالِقِينَ وفيه الماء إلى انه لو کان میں۔اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو حضرت علی بعد کا نبی الكَانَ عَلى و نبی ہوتے اور یہ حدیث اور اسی طرح وہ حدیث هُوَ لا يُنَانِي مَا وَرَدَ فِي حَقِّ جو صراحت کے ساتھ حضرت عمر کے بارے میں آئی عُمَرَ صَريا - لان الحکم ہے خاتم النبیین کی آیت کے منافی وَكَانَهُ قَالَ لَو نہیں کیونکہ یہ حکم فرضی اور تقدیر ی طور پر تُصُورَ بَعْدِي لَعَانَ ہے۔گویا یہ کہا گیا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی جَاعَةٌ من اصحابی نبی تصور کیا جا سکتا تو میرے فلاں فلاں صحابی انبياء ولكن لا نبى بعدى نبی ہوتے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں بن وَهُذَا مَعْنى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ سکتا اور یہی معنے ہے اس حدیث کا کہ اگر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَاش الرام ابراہیم زندہ رہت تو نبی ہو جاتا۔م لكان نَبِيًّا۔الجواب۔یہ عبارت ہماری طرف سے " موضوعات کبیر" سے پیش کردہ عبارت کی تشریح ہرگز نہیں ہے بلکہ مرقاۃ کی اس عبارت میں حدیث لو عاش ابراهیم لَكَانَ صِديقانبیا کی ایک اور رنگ میں توجیہ پیش کی گئی ہے جس کا ذکر خود موضوعات میں بھی موجود ہے۔ہم نے جو حوالہ پیش کیا تھا وہ حدیث لو عاش الا کی ایک دوسری توجیہ کے بیان میں ہے۔مولوی لال حسین اختر نے اپنی پیش کردہ عربی عبارت میں دو جگہ غلط