بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 5 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 5

یہ اقوال بطور خلاصہ نقل کرنے کے بعد ان کے متعلق مولوی لال حسین صاحب اشتر ذیل کے تین امور پیش کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں :- جن حضرات نے ایسی عبارتیں لکھی ہیں۔ان کے پیش نظر تمین امور تھے۔اول - حضرت مسیح علیہ السلام کا تشریف لانا بظا ہر آیت خاتم انبیین اور حديث لاني ANNOT کے منافی معلوم ہوتا ہے۔دوم حديث لم يبق مِنَ النُّوةِ إِلا المبشرات (فوت سے سوائے مبشرات کے کچھ باقی نہیں ، میں نبوت کے ایک جزو کو باقی کہا گیا ہے۔یہ حدیث مسطحی طور پر حدیث لا نبی بعدی کے مخالفت نظر آتی ہے۔سوم بعض علماء و صوفیاء کو وحی و الہام سے نوازا جاتا ہے۔جس سے بادی النظر میں ختم نبوت سے تعارض نظر آتا ہے" و ٹریکٹ مولوی لال حسین مه ) ہمیں مولوی لال حسین صاحب اختر کا یہ بیان مسلم ہے مگر میں ایک جنید خوست کو حديث لم يبق من النبوة ولا المبرات میں باقی کہا گیا ہے۔حضرت محی الدین ابن عربی کے نزدیک وہ نبوت کی جزا ذاتی ہے نہ مجذر ماریں کیونکہ شریعت کو حضرت ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ نے امر عارض قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- عَلَمَا كَانَتِ النُّبُوَةُ اَشْرَفَ مَرْتَبَةٍ وَ احْمَلَها ينتهى إليها من اصْطَفَاهُ الله مِنْ عِبَادِه - : علمنا