بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 45
۴۵ مولوی لال حسین صاحب کی یہ تشریح ناقص ہے۔کیونکہ مھر صاحب تو اس جگہ فرماتے ہیں۔ارتفاع درجات و مراعات صحبت فرشته مرسل که از اکل و شرب پاک است و کثرت ظهور خوارق که مناسب مقام نبوت اند و امثال آن " کہ ایسے لوگوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔انہیں فرشتہ مرسل کی صحبت میسر آتی ہے جو کھانے پینے سے پاک ہیں۔اور کثرت سے خوارق (معجزات) کا ظہور ہوتا ہے جو نبوت کے مقام کے مناسب ہیں دیکھئے مولوی لال حسین صاحب ! آپ کی پیش کر وہ عبارت ہی بتا رہی ہے کہ ایسے برگزیدوں کو فرشتہ مرسل کی صحبت بھی میسر آتی ہے اور انہیں نبوت کے مقام کے مناسب معجزات بھی دیئے جاتے ہیں۔اگر مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نبوت کا مقام ندیل سکتا ہوتا تو مقام نبوت کے مطابق معجزات ملنے کا وہ کیسے ذکر فرماتے۔لیکن دوسرے کمالات نبوت کے ذکر میں وہ مقام نبوت کے پانے کی بھی امید دلا رہے ہیں۔وهذا هو المرام بے شک یہ بزرگ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو آدم سے شروع ہونے والے انبیاء کا اختر قرار دیتے ہیں، مگر غور تو کیجئے آدم علیہ السلام سے نبوت تشریعیہ اور مستقلد شروع ہوئی تھی۔لہذا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم تشریعی اور مستقل انبیاء کا آخری فرد ہوئے۔اور مقام نبوت اب آپ کی پیروی کے بعد آپ کے توسط سے ہی مل سکتا ہے نہ کہ براہ راست اور مستقل طور پر۔