بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 4
کو اپنی تحریر میں تو بہتانات ہی کہتے ہیں اور ہم پر تعریف کا الزام دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کے قلم سے اسی ذیل میں اس حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ ان بزرگوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ غیر تشریعی نبی آسکتا ہے اور لانبی بعدی کے یہ معنی ہیں کہ حضور علیہ السّلام کے بعد تشریعی ثبوت باقی نہیں (صفحہ (۵) مگر لال حسین صاحب اختر کہتے ہیں کہ یہ بزرگ غیر تشریعی نبی کو نبی نہیں سمجھتے۔نبی ان کے نزدیک وہی ہے جو شریعیت لائے لیکن اگر یہ بات مولوی لال حسین صاحب کی صحیح ہو تو صات قل ہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمدق دیانی علیہ اسلام نے جو غیر تشریعی امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے یہ دعوی مولوی لال حسین صاحب کی مسلمہ اصطلاح میں نبوت کا دعوئی نہیں۔کیونکہ حضرت اقدس نے تشریعی نبوت کے دعوے سے ہمیشہ کار کیا ہے اور ایسے دعوی کو کفر اور افترار قرار دیا ہے۔پس جب صورت حال یہ ہے تو آپ کے خلاف ختم نبوت کے انکا یہ کا جو بہتان باندھا جاتا ہے۔وہ ایک دانستہ فتنہ پردازی ہے۔مولوی لال حسین صاحب اختر اپنے رسالہ کے میٹھے پر لکھتے ہیں : " اپنے باطل عقیدہ کے اثبات کے لئے انہوں (احمدیوں، ناقل) نے بزرگان دین کے چند اقوال نقل کئے ہیں کہ۔شرع تاسیخ لیکر نہیں آئے گا کوئی نبی نب کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جیسے اللہ تعالے لوگوں کے لئے شریعت دے کر مامور کرے یعنی نئی شریعت لانے والا نہیں نہ ہو گا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجرد کسی ہی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ منع ہے"