بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 36
poxy شخصیت کے بارے میں رہ گیا۔کہ وہ خود حضرت عیسی علیہ السلام ہیں۔یا اُن کا کوئی مثیل۔ورنہ ہم اور وہ دونوں مسیح موعود کو غیر تشریعی نبی مانتے ہیں۔محض ولی نہیں سمجھتے۔ویسے ہر نبی بدرجہ اولی ولی ہوتا ہے۔مولوی لال حسین صاحب نے الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۳۷ کا یہ حوالہ بھی نقل کیا ہے :- " اس عقیدہ پر امت کا اجماع ہے کہ حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں جس طرح خاتم النبيين " ہم اس اجماع کو بھی درست مانتے ہیں۔لیکن اس اجماع کے باوجود مسیح موعود کا نبی اور رسول ہونا بھو جب احادیث نبویہ علمائے امت کو مسلم رہا ہے۔علماء کا میسج موعود کے نبی نہ ہونے پر کبھی اجماع نہیں ہوا، اور مسیح موعود کا نبی اللہ ہونا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کے منافی نہیں۔کیونکہ ان بزرگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریعی انجنیا اور تشریعی رسولوں میں سے آخری نبی اور آخری رسول قرار دیا ہے اور بموجب حديث لم يبق من النبوة إلا المبشرات مبشرات والی نبوت کو راہو اُن کے نزدیک غیر تشریعی نبوت ہے ( منقطع قرار نہیں دیا۔اور مسیح موعود کو اسی بناء پر نبی الاولیاء یہ نبوت مطلقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔امپھر امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمة خاتم النبین پر اجماع مانتے ہوئے ہی لکھ رہے ہیں کہ اعل مان مُطلَقُ النُّبوة لم ترفع که جان نوا که مطلق نبوت نہیں اُٹھی۔پھر وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خاتم المرسلین