بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 35 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 35

۳۵ انی انا ولسیار صاحب بوست مطلقہ تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ " فتوحات یکیہ" هنر" له قیت والجواہر کا دونوں میں اس کے متعلق قبل ازیں تھیں اور بھارت دیئے جاچکے ہیں کہ وہ مسیح موعود کا ایسے ویلی کی صورت میں تزول مانتے ہیں جو صاحب نبوت مطلقہ ہو گا۔فتوحات مکیہ میں ہی حضرت محی الدین این عربی بعد از نزول عیسی کو بلاشک نبی بھی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :۔فالتشريع امر عارض يكون عيسى يمنلوك فينا عما من غير تشريع وهو نبی بلا شادی و فتوحات کی جلد من كيلد اصنا یعنی شریعت کا نہ تو نبوت پر ایک بھارض حقیقت یعنی زائد بات ہے۔لانا کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام ہم میں بغیر شریعیت کے نازل ہوں گے علیمران اور وہ بلا شک نبی ہوں گے۔پس وہ غیر تشریعی نبی ہوئے اور بیچ میں نبی ہوئے اور سبورت مطلق کے حامل ہوئے۔ہم لوگ بھی حضرت مسیح موعود کو اسی قسم کا نبی مانتے ہیں نہر کو کے تشریعی یا مستقل نبی او میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضر ہے ابن عربی علیہ الرحمہ نے بلا شک نہی بھی قرار دیا ہے اور نبی الاولیاء یہ میوات مطلقہ بھی۔اسی طرح امام مشرانی بھی انہیں نبی بہ نبوت مطلقہ قرار دیتے ہیں۔لہذا ان بزرگوں کے نزدیک حضرت ملے علیہ السلام کو نبوت الولایت انبیا ر 2 الی حاصل ہو گی کیونکہ نبوت، مطلقہ کے حامل گی۔کا بھی نہی ہوتے ہیں۔غیر نبی ہوتے ہیں۔ہیں ہمارا مولوی با حسین صاحب سے اختارا، صرف بیچ سو خود کی