بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 34 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 34

نے کے لئے وحی الہام باقی رہے جس میں شرعی احکام نہ ہوں گے۔اس عبادت میں امام شعرانی نے تشریعی نبوت کا دروازہ بند قرار دیا ہے اور اولیا اللہ کے لئے وحی الالہام یعنی وحی غیر تشر یعنی کا دروازہ کھلا قرار دیا ہے۔یہی مذہب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ہے۔خدا کے ان اولیاء کو جنہیں وحی غیر تشریعی ملتی ہے ان بزرگوں نے بر وی طور پر نبی الاولیا قرار دیا ہے اور مسیح موعود کو نبی الاولیاء بہ نبوت مطلقہ مولوی لال حسین صاحب نے اس بچی کو مبشرات یعنی وحی غیر تشریعی تسلیم کر لیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں ان اولیا اللہ کو اجابات ہوتے ہیں جن میں شرعی احکام یعنی ہیں میں یعنی اوامر و نواہی نہیں ہوتے۔ان الہامات کو مبشرات کہا گیا ہے۔ان پر نبوت کا اطلاق نہیں ہوتا یہ بات آپ نے حضرت محی الدین ابن عربی اور امام شعرانی کے عقیدے کے طور پر بیان کی ہے۔مگر یہ بزرگوار تو اس وحی کے حاملین کو نبی الاولیاء کہتے ہیں اور اس نبوت کو غیر تشریعی نبوت قرار دیتے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اس پر نبوة الولایتہ کا اطلاق جائز رکھا ہے۔ہاں خالی نبوت کا اطلاق جائز نہیں رکھا۔کیونکہ اس سے تفسیر کبھی موت کے دعوی کا شبہ ہوتا ہے۔پس نبی کا اطلاق تو ان لوگوں کے لئے جائز ہے مگر اولیاء کے لفظ کی طرف مضاف کر کے یعنی وہ ایسے لوگوں کو خالی نبی نہیں بلکہ نبی الاولیاء کہتے سلام کو بھی نہ دل کے بعد یہ دونوں بزرگ ہیں۔علیہ