بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 31 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 31

۳۱ تان کے بعد اجرائے نبوت کے قائل تھے جس کا کوئی ثبوت وہ پیش نہیں الجواب ہم پر افتراء کا الزام تو سراسر بے بنیاد ہے۔کیونکہ امت میں نبوت ملنے کے ثبوت میں تو پمفلٹ میں درج شدہ پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ صاحت شہادت دے رہا ہے حد تا نبوت یابی اندر اتنے وتا تجھے اُمت کے اندر نبوت مل جائے) پس مولانائے روم علیہ الرحمہ بدرجات مختلفہ امعنی کا نبی ہو جاتا ممکن سمجھتے میں جب بقول مولوی لال حسین صاحب وہ ہر متبع سنت اور پیر و مرشد کو ی بڑا نہیں کہتے ہیں تو مسیح موعود تو بدرجہ اولی نبی ہوں گے جن کی اُمت کے دور نبوت ثابت کرنا اس وقت مقصود ہے اور جسے حدیث نبوی میں نبی اللہ حضرت امام عبد الوهاب الشعرانی کا قول مارے پمفلٹ میں حضرت امام صاحب موصوف کا یہ قول درست کیا گیا تھا انا یاد رکھو کہ مطلق نبوت نہیں اسلی اور صرحت شریعیت والی نبوت رالیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحه (۲) ت نه مولوی لال حسین صاحب جواب میں لکھتے ہیں :-