بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 30
چونکه در صنعت برد استاد دست تو نہ کوئی ختم صنعت بر تو است۔کہ جب کوئی استاد صنعت و دستکاری میں کمال پیدا کرتا ہے اور سبقت لے جاتا ہے تو کیا تو یہ نہیں کہتا کہ تجھے پر صنعت و دستکاری ختم ہے۔سمجھے جیسا کوئی صنعت گراور دستکار نہیں ہے۔در کشاد ختم با تو من تھی ! در جہاں روح بخستان حالتی ! کہ اسے مخاطب مثنوی ! جس طرح اسلئے درجہ کے کاریگر کو تو کہتا ہے کہ تھر پر کا ریگر ی اور دستکاری کا فن ختم ہے۔اسی کا طرح تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب ہو کر کہہ سکتا ہے کہ کہ بندشوں اور روکاوٹوں کے بہٹانے اور عملہ ائے لاینحل کے جل کرنے میں تو خاتہ یعنی ہمیشل اور یگانہ روزگار اور روحانیت عطا کرنے والوں کی دنیا میں تو حاتم کی طرح لاثانی ہے۔پہلے شعر کے متعلق جناب مولوی لال حسین صاحب اختر لکھتے ہیں : " اس شعر کو اجرائے نبوت سے کیا تعلق۔اس میں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فضائل و کمالات اور رومانی فیوض کا تذکرہ ہے۔یہ قادیانیوں کا محض افتراء ہے کہ حضرت مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ حضور رسالت مآب صلے اللہ علیہ وسلم