بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 23
د آنے والا را فالحمد لله على ذلك۔مولوی لال حسین صاحب نے لکھا ہے :۔ہے:۔مین حضرات نے ایسی عبارات ولیعنی غیر تشریعی نبی آسکتا ہے۔ناقل لکھی ہیں۔ان کے پیش نظر تین امور تھے " العالمین سے دوسرا امر آپ یہ بیان فرماتے ہیں :- لحديث لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلا المبرات (نبوت کے حوالے مبشرات کے کچھ باقی نہیں میں نبوت کے ایک جزء کو باقی قرار دیا گیا ہے۔یہ حدیث مسلمی طور پر لانبی بعدی کے مخالف نظر آتی ہے۔ٹریکٹ (صف) پھر مولوی لال حسین صاحب صفحہ 4 پر حضرت ام المؤمنين عائشة الصدیقہ رضی الله عنها کی ایک سے روایت پیش کرتے ہوئے جس میں رویائے صالحہ کے مسلمانوں کے لئے باقی رکھنے کے بنک ہے۔اس کی تشریح شیخ اکبر کے الفاظ میں ہوں درج کرتے ہیں۔"كما ارتفعت الثمرة بالعلية۔ولهذا قلنا الما تميَّةُ - وَلَهُذَا قُلْنَا إِنَّمَا ارتفعت نبرة التَّشْرِيح فَهذا معنى لا نَبِيَّ بَعْدَهُ اور اس کا ترجمہ مولوی عامل حسین صاحب نے خود یہ کیا ہے وہ بیداری مس اس اعتبار سے کلی طور پر نبوت ختم نہیں ہوئی۔املی موجود ہے۔ہم نے کہا ہے کہ لا نبی بعدی کا معنیٰ یہ ہے کہ حضور کے بعد موت تشریعی باقی نہیں۔کیونکہ رونا اصالحہ اور میش است جاتی ہیں۔"