بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 18 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 18

الله اللها جدی مادر مشفقہ کا خیال کہاں تک پہنچا۔آنے والے خلات کو چودہ سو سال قبل بھانپ لیا۔کس لطیف انداز میں فرماتی ہیں کہ اے بہنو! کبھی لانبی بعدی کے الفاظ سے ٹھو کر نہ کھانا۔اس خاتم النبیین کی طرف نگاہ رکھنا۔مگر یہ نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں" مولوی لال حسین اس تشریحی نوٹ کے ایک حصہ کو نقطے دے کر معدن کرنے کے بعد دری کرتے ہوئے حسب عادت گالیاں دینے کے بعد لکھتے ہیں:۔"اگر امت مرزائیہ حضرت ام المومنین کے یہ الفاظ دنیا کی کسی کتاب سے دکھا دے تو ہم اُسے ایک ہزارہ روپیہ نقد انعام دیں گے" جناب مولوی لال حسین صاحب اس عبادت میں بے جا تعلی فرما رہے ہیں کہ وہ ایک ہزار روپیہ نقد انعام دیں گے۔انعام کس بات پر مقرر کرتے ہیں تشریح الفاظ کو حضرت عائشہ صدیقہ کے قول میں سے دکھانے پر حالانکہ اصل قول تو ہمارے پمفلٹ میں ان الفاظ میں موجود ہے : " قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لا نبي بعده | اور اس کے متعلق معتبر کتابوں کے والے بھی درج ہیں اور مقصود بھی حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کا یہی ہے کہ لا نبی بعدی کے معنے سے متعاق مسلمانوں کو ٹھو کر نہ بچائیں۔اسی لئے انہوں نے لانبی بعدہ کہنے سے منع فرمایا۔حالانکہ لا نبی بعدہ کا قول بظاہر حدیث " لا نبى بعدى " کے مطابق ہے۔پس اگر کسی ٹھوکر سے بچانا مقصود نہ ہوتا تو لا نبی