بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 17
جناب مولوی لال حسین صاحب آیت ذیل پر غور فرمائیں۔ه از یک وَلَوْ الهُمُ امَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَخْرَبَةُ مِنْ عِندِ اللهِ خَيْرُ یعنی اگر یہود ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اُن کے لئے اللہ تعالے کی ے طرف سے بہتر ثواب ہوتا۔مراد یہ ہے کہ چونکہ وہ ایمان نہیں لائے اس لئے ثواب ل سے محروم ہیں۔ورنہ اُن کے ایمان نہ لانے سے دوسرے ایمان لانے والے ثواب سے محروم نہیں۔پس اپنی ذات میں ثواب پانے کا امکان ہے۔لیکن ان یہودیوں کے لئے جو ایمان نہ لائے بہتر تو اب پانا محال قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح کی اپنی ذات میں اُمتی نہی ہونا ممکن ہے۔آیت خاتم النباتین کے منافی نہیں۔گو صاحبزادہ ابراہیم کی زندگی کے محال ہونے پر ان کے لئے نبی ہونا محال قرار دیا ایگاه گیا ہے نہ اپنی ذات میں۔فتدبروا یا اولی الابصار۔ام المومنین حضرت عالت صديقه انار کا قول ہمارے پمفلٹ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول بھی پیش کیا گیا تھاد قُولُوا الصفاته الأشياء وَلَا تَقُولُوا لاني بَعْدَهُ ر در نشود جلده مانا و تكمله لجميع البحار شد کہ اے لوگو ! آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانب یاد تو ضرور کہو مگر یہ نہ کہو کا کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ آئے گا " یہ قول اور اس کا ترجمہ درج کرنے کے بطور تشر بھی نوٹ آگے لکھا گیا تھا۔