بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 16 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 16

14 پر سزا کا محال ہونا صرف اس شیر کے نہ پایا جانے پر موقوف ہوتا ہے۔ورنہ جتنا اپنی ذات میں محال نہیں ہوتی۔اُوپر کی دونوں مثالوں کا یہی حال ہے۔پہلی مثال میں دو خداؤں کا ہونا محال ہے اور دو خراؤں کے پایا جانے کی صورت میں زمین و آسمان میں فساد ضروری قرار دیا گیا ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اگر دو خدا نہ پائے جائیں تو پھر فساد مسکن ہی نہیں بلکہ محال ہی ہے۔کیونکہ فساد کا امکان تو اس کے بغیر بھی قیامت سے پہلے مسلم ہے۔پیس فساد دو خداؤں کے بغیر بھی ممکن ہوا۔اسی طرح دوسری مثال میں انبیاء سے شرک محال قرار دے کر ان کے عملوں کا اکارت بجانا محال قرار دیا گیا ہے۔ورنہ لوگوں کے عمل کا اکارت جانا شرک کے علاوہ کفر و فسق کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے گویا اس مثال میں جوانی نف مجال نہیں بلکہ ممکن الوقوع ہے۔گو تیجی سے اس کا امکان محال ہے۔اسی طرح حدیث لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِمُ لَمَعَانَ صديقا نیا میں شرط کو عالی ابراهیم کر پایا جانے کی وجہ سے ابراہیم کا نہی ہونا محال قرار دیا گیا ہے۔درینہ اپنی ذات میں اُمتی نبی ہونا آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں ہے۔اسی لئے تو امام علی القاری بناتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نہی نہیں ہو سکتا جو آپ کی شریعیت کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔گویا یہ آیت تشریعی اور مستقل نبی کی آمد میں مانع ہے۔اُمتی نبی کا آنا اس کے منافی نہیں۔پس امتی نبی کا آنا آیت خاتم النبین کے رو سے محال نہ ہوا۔L