بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 15
یعنی نووی کا اس حدیث سے انکار جیب ہے۔باوجودیکہ اس حدیث کو تین صحابہ نے روایت کیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نور کی پر اس کے صحیح سے نہیں کھٹے حديث لَوْ عَامِلَ إِبْرَاهِيمَ كَكَان مدیکا نبیا کے متعلق مولوی لال حسین صاحب نے یہ بھی لکھا ہے۔اس روایت میں حرف کو ہے جو امتناع اور نامسکنات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے۔لَوْ كَانَ فِيْهِمَا الهَةُ ال الله لفسدتا (انبیا (۲۳) اگر زمین و آسمان دونوں میں اللہ تعالٰی کے سوا معبود ہوتا تو دو نو بگڑ جاتے۔جیسے دو خدا نہیں ہو سکتے اسی طرح حضرت ابراهیم زندہ نہ رہ سکتے تھے نہ نبی ہو سکتے تھے کے ٹریکٹ مولوسی لال حسین صند) پھر آیت اَوْ اَشْرَكُوا الحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (انعام آیت (۸۸) پیش کر کے لکھتے ہیں :- اس آیت میں تعلیق بالمحال ہے۔یعنی حیات کو سے یہ مسئلہ فرضی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بالفرض اگر نبی بھی اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتے تو اُن کے تمام اعمال اکارت اور مائع ہو جاتے۔کیا مرزائیوں کے مذہب میں اس سے یہ استدلال صحیح ہوگا کہ فیوں سے مشترک ہو سکتا ہے نعوذ باللہ منہ " فریکی مولوی لال حسین صال) الجواب بجناب مولوی لال حسینی صاحب کو کے استعمال میں غلطی خوردہ ہیں۔کو کا استعمال دو طرح ہوتا ہے۔وہ یاد رکھیں کہ کبھی شرط کے محال ہونے