بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 53
۵۳ کیونکہ ایسے نہی کے لئے امتی ہونا اور اتنی رہنا لازم ہے۔امام علی القاری علیہ الرحمہ کا قول ہمارے ٹرکیٹ میں حضرت امام علی القاری کا قول یوں پیش کیا گیا تھا۔اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جائے اور اسی طرح حضرت عمر نبی بن جاتے تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے متبع یا اتنی نبی ہوتے جیسے عیسی خضر اور الیاس علیہم السلام ہیں۔یہ صورت خاتم النبیین کے خلاف نہیں ہے کیونکہ خاتم انبیین کے تو یہ معنے ہیں کہ اب آنحضرت صلے اللہ یہ وسلم کے بعد ایسا ہی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کا اتنی نہ ہو " ( موضوعات کبیر مش ۵۹) یہ عبارت امام علی انصاری نے حدیث کو عاش (ابراهيم الكَانَ سِدَ لِقَا نَبِيًّا (ابن ماجہ میلہ اول صفحه ۲۳۷ کتاب الجنائز ) کی تشریح میں درج کی ہے۔اس حدیث پر بحث ہم شروع میں کر آئے ہیں۔مولوی لال حسین صاحب اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ہم ثابت کر چکے ہیں کہ امام علی القاری اس حدیث کو تین طریقوں سے مروی ہونے کی وجہ سے قوت یافتہ قرار دیتے ہیں بلکہ اُسے جو بھی حدیث لو کان موسی جیا لا و سکه إِلا بائی کے مضمون سے بھی قوت پانے والی قرار دیتے ہیں۔اسی لئے انہوں نے اس کی وہ تشریح زمائی ہے جو اُن کے اوپر کے الفاظ میں درج ہے۔مولوی لال حسین صاحب اختر لکھتے ہیں۔الله حضرت ملا علی قاری رحمتہ المہ علیہ اپنی مندرجہ بالا عبارت کی تشریح کرتے ہیں۔