بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 12
١٢ ضعیت ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔بیشک ابن ماجہ کی اس حدیث کے راوی ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان عیسی کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن بعض نے اس کو ثقہ بھی قرار دیا ہے چنانچہ تہذیب التہذیب نیز اکمال الاکمال میں لکھا ہے: قال يزيد بن هارون ما قضى رجل أَعْدَلَ فِي الْقَضَاءِ مِنْهُ وَقَالَ ابن عدي لله احاديث صالحةٌ وَهُوَ خَيْرُ مِنْ الى حية د تہذیب التہذیب جلدا مش ۱۳ و المال الان احد و في اسماء الرجال صنا ) یعنی ابن ہارون نے کہا ہے کہ ابراہیم بن عثمان سے بڑھ کر کسی نے قضا میں عدل نہیں کیا۔اور ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی احادیث آچھی ہیں اور وہ اپنی حمید سے بہتر مانی ہے۔اور ایوسیہ کے متعلق نہیں ہے ابھی سعدی نے راوی زیر بحث حدیث کو بہتر قرار دیا ہے، تہذیب التہذیب جلد اول صفحہ ۱۱۳ پر لکھا ہے: ولته دارقطني وقال التس ثقه یعنی امام دار قطنی نے الوحید کو ثقہ قرار دیا ہے اور نسائی بھی اسے ثقہ کہتے ہیں۔پس اگر نسائی وغیرہ نے ابی شیبہ کو ضعیف قرار دیا ہے تو ابن عدی اُسے ابو سینہ سے بھی بہتر راوی سمجھتے ہیں جیسے خود نسائی ثقہ قرار دے رہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ حدیث زیر بجنت کے معنے چونکہ ان لوگوں پر نہ کھیلے تھے اس لئے انہوں نے روایت کو ضعیف قرار دے دیا ہے۔چنانچہ امام علی القاری علیہ الرحمہ نے ابن عبد البر کے قول کی تردید میں لکھا ہے غرابته لا یخفی کہ