مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 47 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 47

عربی لغت اور محاورہ کے رو سے خاتم کے معنی ڈاکخانے کی مہر کے نہیں جسے لگا لگا کر خطوط جاری کئے جاتے ہیں۔بلکہ اس سے مراد وہ مہر ہے جو لفافے پر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر کی چیز باہر نکلے نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے“ (رساله ختم نبوت صفحه ۱۲) لیکن جب حضرت عیسی علیہ السلام پر لفافہ والی مہر لگ چکی ہے اور وہ لفافہ انبیاء کے اندر بند ہو چکے ہیں تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس بند لفافہ سے مُہر توڑے بغیر نکل کر امت محمدیہ میں کیسے آسکتے ہیں؟ کیونکہ بقول اُن کے انبیاء کے لفافہ پر مہر بندش والی لگ چکی سواندر کا نبی باہر نہیں آسکتا۔جب تک مہر ٹوٹ نہ جائے اور یہ مہر ٹوٹ نہیں سکتی۔لہذا ان کا امت محمدیہ میں اصالتاً آنا محال ہوا۔ہاں لفافہ والی مہر پہلے انبیاء پر لگ سکتی ہے اور وہ سب انبیاء مستقل نبی ہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے امتی نبی پر تو خاتم النبیین کی مہر بند کرنے کے لئے نہیں لگ سکتی بلکہ اس کی تصدیق اور اس کے جاری کرنے کے لئے ہی لگ سکتی ہے۔فتووں پر علماء کی مہریں فتووں کو جاری کرنے کے لئے ہوتی ہیں نہ کہ انہیں بند کرنے کے لئے۔ڈاکخانہ والی مہر سے پہلے فتووں والی مہر کا رواج عام رہا ہے جوفتووں کو جاری کرتی یعنی مستند بناتی ہے آخر مودودی صاحب خاتم النبیین کی مہر کا کیوں علماء کی فتووں والی متداول اور قدیم سے رائج مہر پر قیاس نہیں کرتے۔واضح رہے کہ ڈاکخانہ والی مہر بھی عربی لغت اور محاورہ کے معنوں میں خاتم ہے نہ کہ لغت و محاورہ عربی کے خلاف عربی لغت کے معنی ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔اب محاورہ کے معنی ملاحظہ ہوں جو بالکل لغت کے مطابق ہیں۔خاتم کے محاورات امت کے اندر خاتم الاولیاء خاتم الفقہاء خاتم المحدثین اور خاتم الشعراء کا محاورہ شائع وذائع 47