مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 87
کے بعد کی یہ عبارت الحكم وَمَنْ اَوْ لَهُ بِتَخْصِيصِ فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع بتكفيره لانه مكتب لهذا النص الذي اجمعت الامۃ علی انہ غیر ماوّل ولا مخصوص جو انہوں نے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بیان میں امام غزالی کی طرف منسوب کی تھی مودودی صاحب کے ضمہ سورہ احزاب مندرجہ تفسیر تفہیم القرآن میں موجود نہیں۔اسی عبارت کا ترجمہ مودودی صاحب نے اپنے رسالہ ختم نبوت میں درج کیا تھا:۔اب جو شخص اس کی تاویل کر کے اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مخصوص کرے اس کا کلام محض بکواس ہے جس پر تکفیر کا حکم لگانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ وہ اس نص کو جھٹلا رہا ہے جس کے متعلق تمام امت کا اجماع ہے 66 (رساله ختم نبوت صفحه ۲۵) ہم امام غزالی کی کتاب الاقتصاد کے رو سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ان کے نزدیک اجماع کو حجت قاطعہ ماننے میں بہت شبہات ہیں اس لئے وہ اجماع کے انکار کی بناء پر کسی کو کا فرقرار نہیں دیتے بلکہ نظام معتزلی کو کافر قرار دیا جانے پر بھی انہیں اعتراض ہے جو سرے سے ہی اجماع کے منکر ہیں۔اور نص کی تاویل کرنے والے کو بھی وہ نص کا مکذب قرار نہیں دیتے تو پھر آیت خَاتَمُ النَّبِيِّين اور حدیث لا نبی بعدی کی تاویل کرنے والے کو وہ کیسے کا فرقرار دے سکتے تھے۔پس مودودی صاحب کے ضمیمہ میں پیش کردہ اصل عبارت نے بھی مودودی صاحب کی صحافتی دیانت اور امانت کا پردہ چاک کر دیا ہے اور رسالہ ختم نبوت اور ضمیمہ سورہ احزاب سے امام غزالی علیہ الرحمہ کی الاقتصاد کے پیش کردہ دونوں عبارتوں کا تقابل اور موازنہ کرنے والے کے سامنے یہ بات آئینہ کی طرح سامنے آجاتی ہے کہ رسالہ ختم نبوت اور تحقیقاتی 87