مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 57
اسلامی اسٹیٹ کی کوئی بغاوت نہیں کی تھی بلکہ وہ اس کے ماتحت ایک پر امن شہری کی طرح زندگی بسر کر رہا تھا ؟ مفسرین کے اقوال لنبيين اجماع امت کے عنوان کے ماتحت مودودی صاحب نے مفسرین کے اقوال خاتم النبی کے معنی میں پیش کر کے اس بات پر اجماع ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ ساری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ان کا یہ دعویٰ اجماع باطل ہے کیونکہ تیر امسلمہ بزرگوں کے اقوال سے ہم دکھا چکے ہیں کہ آیت خاتم النبیین اور احادیث نبویہ میں صرف تشریعی نبوت کا انقطاع مراد ہے امت کے اجماع کا دعوی اگر کیا جائے تو صرف اس بات پر کیا جاسکتا ہے کہ علماء سابقین کا صرف تشریعی اور مستقل نبوت کے انقطاع پر اجماع ہے اور اس اجماع میں جماعت احمد یہ بھی شامل ہے۔جن مفسرین کے اقوال مودودی صاحب نے پیش کئے ہیں ان میں سے کوئی مودودی صاحب کا ہم خیال نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ مسلوب النبوۃ ہوکر آئیں گے چنانچہ ان میں سے حضرت امام علی القاری تو صاف لکھتے ہیں :۔عیسی علیہ السلام کے نبی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو کر احکام شریعت کے بیان کرنے اور آپ کے طریق کو پختہ کرنے میں کوئی منافات موجود نہیں خواہ وہ یہ کام اس وحی سے کریں جو اُن پر نازل ہو“ ( ترجمه مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۵۶۴) اور علامہ الوسی مفسر قرآن اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں :۔57