مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 49
آئندہ ہونے والا صرف امتی نبی کہلا سکتا ہو نہ کہ مستقل نبی۔کیونکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم شریعت تامہ کاملہ مستقلہ الی یوم القیامہ لانے والے نبی ہیں نہ کہ ایسے آخری نبی جو شریعت تامہ کاملہ مستقلہ الی یوم القیامہ کی امتیازی حیثیت سے خالی ہوا اور صرف نبوت عامہ کے لحاظ سے آخری نبی ہو۔پس مودودی صاحب کو خاتم النبیین کے حقیقی معنوں سے انکار کر کے اور اس کے معنی محض آخری نبی کر کے اور ان کو حقیقی معنی سمجھ کر (حالانکہ یہ مجازی معنی ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل النبیین ہونے سے بھی انکار کرنا پڑا ہے اور وہ ختم نبوت محمدیہ کے فیضان سے بھی منکر ہورہے ہیں۔خشت اول چوں نہر معمار کج۔تا ثریا می رود دیوار کج چونکہ خاتم النبیین کے معنوں کی بنیاد ہی مودودی صاحب نے غلط رکھی ہے اس لئے جو عمارت اس پر انہوں نے تعمیر کی ہے وہ سرتا پا بھونڈی اور خاتم النبیین کی بزرگ شان کے منافی ہے۔کجا مودودی صاحب کے یہ معنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گویا آخری بادشاہ کی طرح آخری نبی ہیں اور کجا ہمارے معنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے لئے مہر ہیں یعنی روحانی شہنشاہ ہیں جن کی ماتحتی میں اور جن کی مہر ختمیت کی تاثیر و فیض سے رُوحانی بادشاہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم تو مودودی صاحب کے نزدیک ختم نبوت کے منکر ٹھہرے اور مودودی صاحب ختم نبوت کے حقیقی لغوی معنی کا انکار کر کے اور افضل النبیین کے معنوں کو رڈ کر کے اور فیضانِ نبوت محمدیہ کو بند قرار دے کر ختم نبوت کے ماننے والے ہیں۔گو یا ختم نبوت اُن کے نزدیک نبوت محمدیہ کے فیضان کی بندش کا نام ہے اور خاتم النبین آپ کی افضلیت بر انبیاء پر دال نہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔49