مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 50 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 50

حضرت مولاناروم علیہ الرحمہ تو فرماتے ہیں بہرائیں خاتم شداست او که بجود مثل او نے بود نے خواهند بود چونکه در صنعت برد استاد دست نے تو گوئی ختم صنعت بر تو است یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے خاتم ہیں کہ سخاوت یعنی فیض پہنچانے میں نہ آپ کی مثل کوئی ہوا ہے اور نہ ہو گا جب کوئی استاد کاریگری میں اپنا کمال دکھاتا ہے تو کیا اے مخاطب تو نہیں کہتا کہ اس پر گاریگری ختم ہوگئی ہے۔پس خاتم النبیین کے حقیقی معنی ہیں نبوت کا فیض پہنچانے میں کامل کا ریگر نبی۔(مثنوی مولاناروم جلد ۶ صفحه ۱۹) پھر وہ آپ کا فیض یوں بیان فرماتے ہیں ؎ فکر کن در راه نیکو خدمتے۔تا نبوت یابی اندر امتے۔۔۔۔۔یعنی نیکی کی راہ میں گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسی خدمت بجالا کہ تجھے امت کے اندر نبوت مل جائے۔( مثنوی جلد ۱ صفحہ ۵۳) پس خاتم النبیین کے حقیقی معنی نبی تراش ہیں اور افضل النبیین اور آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہونا ان معنی کے توابع اور لوازم ہیں۔نحوی لحاظ سے لکن سے پہلے منفی جملہ ہو جیسا کہ آیت زیر بحث میں ہے تو اس کے بعد والا جملہ مثبت مفہوم رکھتا ہے پس لكِن رَّسُول الله وَخَاتَمَ النبین کا جملہ منفی مفہوم نہیں رکھتا لہذا اس کے معنی محض آخری نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا مفہوم منفی ہے جو یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔پس خاتم النبیین کے مثبت معنی اس جگہ نبی تراش ہیں اور اوپر کے باقی معانی اس کے لوازم ہیں جو مثبت و منفی ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپکو 50