مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 37
الاقتصاد صفحہ ۱۱۳ کی عربی عبارت میں بھی اُسی تعریف کا ارتکاب کر چکے ہیں۔تحقیقاتی کمیشن کے سامنے انہوں نے عربی عبارت یوں پیش کی تھی جو ان کے مطبوعہ تیسرے بیان میں بھی درج ہے:۔ان الأمة فهمت بالاجماع من هذا اللفظ انّه أفهم عدم النبي بعده ابدا وعدم رسول بعده وانه ليس فيه تاویل ولا تخصيص وَ مَنْ أَوَّلَهُ بتَخْصِيصٍ فكلامه من انواع الهذيان لا الحكم بتكفيره لانه مكلّب لهذا النص الذي اجمعت يمنع الامة على انه غير مأوّل ولا مخصوص (الاقتصاد صفحه ۱۱۲) " اس عبارت میں بھی خط کشیدہ الفاظ محرف ہیں اور امام غزالی کی کتاب الاقتصاد صفحہ ۱۱۳ میں محولہ عبارت اس طرح موجود نہیں۔غرض امام غزالی نے ایسے شخص کو جو اجماع کا منکر ہولیکن وہ اصل نص کو مانتا ہو اس جگہ نص کا مکذب قرار نہیں دیا۔امام غزالی کے نزدیک تو ماول کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔سوال ا کیا مودودی صاحب یا ان کے حامیوں میں یہ جرات ہے کہ وہ خط کشیدہ عبارت مودودی صاحب کے پیش کردہ الفاظ میں الاقتصاد سے دکھا سکیں؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں وَلَوْ سَكَان بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا - واضح رہے کہ امت محمدیہ کا اجماع صرف اس بات پر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔آیت خاتم النبیین اور لا نبی بعدی وغیرہ احادیث سے صرف شارع نبی کے انقطاع پر اجماع امت قرار دیا گیا ہے اور جماعت احمد یہ اس اجماع 37