مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 21 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 21

(۹) الامام علی القاری علیہ الرحمۃ وفات ۱۲ ماه فقہ حنفی کے جلیل القدر امام اور ممتاز شارح حدیث ہیں۔(۱۰) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی وفات کے باھ بارھویں صدی کے مجد داور ممتاز متکلم اسلام ہیں۔(۱۱) حضرت مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی علیہ الرحمتہ وفات ۰۴ ساھ (۱۲) حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی علیہ الرحمتہ بانی دارالعلوم دیو بندوفات اه آخری دونوں بزرگ فقہ حنفی میں ہندوستان کے جلیل القدر علماء میں سے ہیں۔(۱۳) نواب صدیق حسن خانصاحب بھو پالوی وفات کے ساتھ ہندوستان کے اہلحدیث علماء میں سے ممتاز عالم دین تھے ان کی تفسیر فتح البیان عربی زبان میں مصر میں طبع ہوئی ہے۔ان تیرہ بزرگوں نے آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی وغیرہ کی جو انقطاع نبوت پر دلالت کرتی ہیں یہی تشریح فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔ان کے نزدیک امتی نبی کا آنا منافی ختم نبوت نہیں۔اس لئے یہ سب مسیح موعود کو امتی نبی تسلیم کرتے ہیں۔سوال اس جگہ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر مودودی صاحب کے نزدیک جماعت احمدیہ آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی وغیرہ کے یہی معنی لینے کی وجہ سے منکر ختم نبوت ہے تو کیا ان تیرہ بزرگان دین پر بھی وہ کفر کا فتویٰ لگانے پر آمادہ ہیں؟ 21