مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 2
مکتب خیال کے حامیوں کے لئے سخت قابل تعجب ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات یافتہ مانتے ہیں اور ان کے آسمان سے اصالتا آنے کے قائل نہیں۔جماعت احمدیہ کے علماء کو آیت خاتم النبیین کے ان معنوں سے علمائے امت کے ساتھ اصولی اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہیں اور یہ کہ مسیح موعود ایک پہلو سے امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔اگر جماعت احمدیہ کو ان علماء سے کوئی اختلاف ہے تو صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں اختلاف ہے کہ آنے والا مسیح موعود اصالتاً حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ہیں یا اس سے مراد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک فرد ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل اور ان کے رنگ میں رنگین ہو کر آنے والا تھا۔یہ اختلاف ختم نبوت کے معنوں میں نہیں محض موعود امتی نبی کی تعیین میں ہے۔علمائے امت کو یہ بھی مسلم ہے کہ پینگوئیوں کی پوری حقیقت اکثر ان کے پورا ہونے پر کھلتی ہے اور قبل از ظهور پیشگوئی اس پر کسی خاص معنوں پر اتفاق بھی ہو تو اسے اجماع امت قرار نہیں دیا جاسکتا۔مولوی مودودی صاحب آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں قرآن شریف سے ایک بھی آیت پیش نہیں کر سکے۔حالانکہ ایسے جدید وصف کی تفسیر جس سے پہلے مخلوق نا آشنا تھی خود خدا تعالیٰ کو کرنی چاہئے۔مگر مولوی صاحب کو اپنے معنی کی تائید میں قرآن شریف سے ایک آیت بھی نہیں ملی لیکن اس کے باوجود وہ چند احادیث کے غلط معنی لے کر اپنے رسالہ میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آیت خاتم النبیین اور احادیث نبویہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا بکلی انقطاع ثابت ہے۔اپنے اس خیال پر وہ ایسے نازاں ہیں کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو اپنے ان معنوں کا قائل کر سکتے ہیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی گلا بھی ہو اور کوئی نبی آبھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے۔خطرہ ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس کا ہی تو 2