مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 91
کے الفاظ نہیں۔یہ الفاظ دراصل مودودی صاحب کے خود ساختہ ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے سیاق کلام میں تحریف کر دی ہے۔امام غزالی یہ بتا رہے تھے کہ اجماع کے انکار کی وجہ سے ہم کسی کو کا فرقرار نہیں دیں گے ہمیں تو نظام معتزلی کو بھی کا فر قرار دینے پر اعتراض ہے جو سرے سے اجماع کے وجو دہی کے منکر ہیں کیونکہ اجماع کے حجت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ لو فتح هذا الباب لانجر الى امور شنيعة یعنی اگر اجماع کو حجت قرار دے کر اس کے انکار پر تکفیر کا دروازہ کھول دیا جائے تو یہ بہت سی خرابیاں پیدا کرنے کا موجب ہوگا مودودی صاحب نے اس اصل سیاق کلام کو نظر انداز کر کے اس سیاق کلام کے برعکس بریکٹ کی عبارت اپنے پاس سے گھڑ کر امام غزالی علیہ الرحمتہ کی طرف یہ مضمون منسوب کرنا چاہا ہے کہ اگر اجماع کے حجت ہونے سے انکار کا دروازہ کھول دیا جائے تو بڑی فتیح باتوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔حالانکہ امام غزالی علیہ الرحمہ اس کے برعکس اس عبارت سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر اجماع کو حجت قرار دے کر تکفیر کا دروازہ کھول دیا جائے تو اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوں گی۔پس مودودی صاحب نے امام موصوف کے کلام میں خود ساختہ بریکٹ بڑھا کر اس کے سیاق کو بگاڑنے میں سراسر تحریف سے کام لیا ہے۔امام غزالی علیہ الرحمہ تو اجماع کو حجت اس لئے نہیں مانتے کہ ان کے نزدیک اس کے حجت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں اور اس جگہ یہ بتارہے ہیں کہ اس کے حجت ہونے کا دروازہ کھولنے پر اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوں گی۔پھر مثال کے طور پر وہ ایک خرابی کا یوں ذکر فرماتے ہیں کہ مثلاً اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ہمارے محمد صلی اللہ علیہ کے بعد کسی رسول کی بعثت جائز ہے تو (اجماع کو حجت قرار دینے کی وجہ سے۔ناقل ) اس کی تکفیر میں توقف نہیں ہو سکے گا۔یہ ترجمہ ہے فیبعد التوقف فی تکفیرہ کا۔جس سے مراد ان کی یہ ہے کہ رسول کی آمد کے محال ہونے پر اجماع قرار دے کر 91