مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 81
(۱۲) دجال اور مسیح ابن مریم کے نزول کے متعلق جو احادیث مودودی صاحب نے پیش کی ہیں ان میں سے بعض میں ہے کہ مسیح علیہ السلام مسلمانوں کے امیر کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور بعض میں ہے کہ وہ خود امام ہوں گے دونوں قسم کی روایات میں بظاہر تضاد ہے۔مودودی صاحب نے دوسری قسم کی احادیث کو ر ڈ کر دیا ہے اور مسیح ابن مریم کو بعد از نزول مسلمانوں کے امیر کے تابع قرار دیا ہے جو ایک نبی کی صریح ہتک ہے ہمارے نزدیک دونوں قسم کی احادیث میں یوں تطبیق ہو سکتی ہے کہ چونکہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ کے مامور کی دو حیثیتیں ہیں ایک مقام مہدویت کی اور دوسری مقام عیسویت کی جیسا کہ مسند احمد حنبل کی حديث يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا سے ظاہر ہے کہ جس شخص کو عیسی قرار دیا گیا ہے اس کو امام مہدی بھی قراردیا گیا ہے۔یہ موعود امام الْمَهْدِی ہونے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل بروز ہونے کی وجہ سے ساری دُنیا کی اصلاح سے تعلق رکھتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا کامل بروز ہونے کی وجہ سے اُمت کا مسیح موعود بن کر عیسائیوں کی اصلاح کرنے والا تھا۔لہذا اس کی مہدی ہونے کی حیثیت اصل اور مقدم ہے اور مسیح ہونے کی حیثیت فرع اور متاثر ہے۔مگر چونکہ مسیح موعود ہی امام مہدی بھی ہے اس لئے مکاشفہ میں آنحضرت کو اُسے بحیثیت مہدی امام دکھایا گیا اور بحیثیت مسیح مقتدی۔اور دوسری احادیث میں اس کے ایک شخص ہونے کی وجہ سے مسیح موعود کو ہی امام قرار دے دیا گیا ہے۔اگر کوئی شخص ہماری اس تعبیر کو درست نہ سمجھے تو دوسری احادیث کی روشنی میں جو مسیح اور مہدی کو ایک ہی شخص قرار دیتی ہیں ، پہلی قسم کی احادیث کو رڈ کرنا پڑے گا۔مگر رڈ کی بجائے تطبیق کو ترجیح حاصل ہے اس لئے ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(۱۳) مودودی صاحب کی پیش کردہ روایت میں ہے کہ مسیح مسلمانوں کا امام بنے گا تو 81