مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 9
یعنی حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب ابراہیم فرزند رسول وفات پا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا کہ جنت میں اس کے لئے ایک دودھ پلانے والی ہے اور فرمایا کہ اگروہ زندہ رہتا تو ضر ور صدیق نبی ہوتا“ یہ حدیث ابن ماجہ میں ہے جو صحاح ستہ میں سے ہے اور یہ تین مختلف طرق سے مروی ہے۔شہاب علی البیضاوی جلدے صفحہ ۱۷۵ پر اس حدیث کے متعلق لکھا ہے:۔أَمَّا مِحَةَ الْحَدِيثِ فَلَا شُبْهَةٌ فِيْهِ لِأَنَّهُ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةً وَغَيْرُهُ - یعنی حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کی ہے۔حضرت امام علی القاری نے جو فقہ حنفیہ کے ایک زبر دست امام ہیں اس حدیث سے امکانِ نبوت پر استدلال کیا ہے اور لکھا ہے:۔لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ الله وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ الله نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ - یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح اگر حضرت عمررؓ نبی ہو جاتے تو یہ دونوں آپ کے متبعین ہی رہتے۔(موضوعات کبیر صفحہ ۵۸) پھر یہ بتانے کے لئے کہ ان کا نبی ہو جانا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا۔فرماتے ہیں :۔فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْلَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنْسَحُ مِلَّتَه وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِه (موضوعات كبير صفحه ۵۹) یعنی ان کا نبی ہو جانا خدا تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا کیونکہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔صاحبزادہ ابراہیم فرزند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 9 ھ میں ہوئی اور آیت خاتم 9