مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 8 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 8

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اس کی تفسیر فرماتے ہیں:۔فَإِنَّهُ خِطَابٌ لِأَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَلِكُلِّ مَنْ بَعْدَهُمْ ( تفسیر اتقان جلد ۲ صفحه ۳۶مصری) یعنی بنی آدم کے الفاظ سے یہ خطاب اس زمانہ اور بعد کے لوگوں سے ہے۔پس زیر بحث آیت میں بھی بنی آدم کے الفاظ میں تمام بنی نوع انسان کو خطاب کر کے ان میں رسولوں کے بھیجے جانے کی پیشگوئی اور انہیں قبول کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔علامہ بیضاوی اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔اثْيَانُ الرُّسُلِ اَمْرُ جَائِزُ غَيْرُ وَاجِبِ ( تفسیر بیضاوی مجتبائی جلد ۲ صفحه ۱۵۴) کہ رسولوں کا آنا جائز یعنی ممکن ہے واجب یعنی ضروری نہیں“ پس جب اس آیت سے بھی امکان الرسل ثابت ہے تو کیا خدا تعالیٰ مودودی صاحب کو اپنا ریکارڈ پیش کرنے پر اس آیت سے ملزم نہیں کر سکے گا؟ اس سلسلہ میں اور بھی بہت سی آیات پیش کی جاسکتی ہیں مگر اس مختصر مضمون میں صرف ان دو آیتوں کا پیش کرنا کافی ہے۔(۳) حدیث نبوی میں آیا ہے:۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ صَلّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا - (ابن ماجہ جلدا کتاب الجنائز صفحه ۲۳۷ مصری) 8