مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 74
رہے ہیں۔پس مسیحی دجال دراصل یہودی نہیں۔اسے تمثیلاً الیہودی قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنہ سے بچنا چاہے وہ سورہ کہف کی پہلی دس آیات کی تلاوت کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ آیات پڑھنے والا درقبال کے نمایاں وصف کو معلوم کر کے اس کی شناخت کر لے گا۔اس لئے اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچ جائے گا۔سورہ کہف کی پہلی دس آیات میں دجال کا پتہ دینے والی اہم آیت یہ ہے:۔وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِبَابِهِمْ (کہف رکوع ۱) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں خبردار کرتا ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے بیٹا بنالیا ہے۔اس بات کا نہ انہیں علم ہے اور نہ اُن کے آباء کو۔سورۃ مریم میں اس کو فتنہ عظیمہ قرار دیا گیا ہے سورۃ مریم کے آخر میں جس کا تعلق عیسائیوں سے ہے اس فتنہ عظیمہ کا ذکر تعادُ السموتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُ الْجِبَالُ هَداهِ آنْ دَعَوُا للرّ حمٰنِ وَلَداہ کی آیت میں کیا گیا ہے یعنی قریب ہے کہ ان کے خدا کا بیٹا بنانے سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں۔اس سے بڑا مذ ہبی فتنہ قرآن مجید میں اور کوئی بیان نہیں ہوا۔اور حدیث میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا قرار دیا گیا ہے۔پس دجال کا خروج عیسائیوں میں سے ہی ہونے والا تھا۔چنانچہ خدا کا بیٹا بنانے والے اور اس عقیدہ پر اصرار کرنے والے اس آخری زمانہ میں مغربی اور یورپین پادری ہیں جو اس عقیدہ کی جابجا تبلیغ کرتے پھرتے ہیں کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ابن اللہ ہیں بلکہ وہ خود خدا ہیں۔پس دجال دراصل عیسائیوں میں سے ہی ظاہر ہونے والا تھا نہ کہ یہودیوں میں سے عُزیر کو خدا کا بیٹا قرار دینے والے یہودی جو عرب میں صدر اسلام میں موجود تھے۔اب بالکل 74