مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 69
تعالیٰ اس سنت کو امام مہدی ہی میں بدل دے گا اور ان کی بیعت کے وقت آسمان سے منادی کرے گا کہ لوگو! یہ ہمارا خلیفہ مہدی ہے اس کی سنو اور اطاعت کرو“ (ترجمان القرآن جون ۲۶) سوال ۲۰ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر مودودی صاحب حضرت عیسی علیہ السّلام کے فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے دمشق کے مشرق میں سفید مینارہ کے پاس ظاہری طور پر اتر آنے کا لوگوں کو کیوں یقین دلانا چاہتے ہیں؟ کیا یہ امر سنت اللہ اور حکمت خداوندی کے خلاف نہیں؟ کیا اس سے حقیقت مہدی کے متعلق آسمان سے آواز آنے سے بڑھ کر بے نقاب نہیں ہو جاتی اور عقلی آزمائش اور امتحان کا موقعہ مفقود نہیں ہو جاتا۔" (ه) مودودی صاحب اپنے رسالہ میں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے نازل ہوتے ہی مسلمان اور عیسائی سب انہیں قبول کر لیں گے چنانچہ وہ لکھتے ہیں :۔اس وقت ملتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک ہی ملت میں شامل ہو جا ئیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد (رساله ختم نبوت صفحه ۴۱) کیا جائے گا“ سوال ۲۱ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی نبی کے زمانہ میں بھی ایسا ہوا ہے کہ اس کے آتے ہی بلا مقابلہ اس کے زمانہ کے سب لوگوں نے اسے یکدم قبول کر لیا ہو۔کیا ایسے عقیدہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کو بلحاظ 69