مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 27
میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کے باوجود آپ کے اعزاز واکرام کی وجہ سے آپ کے متعلق نزول کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آيَتِ اللهِ (طلاق رکوع ۲) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ذکر رسول نازل کیا ہے جو تم پر اللہ کی کھلی آیات پڑھتا ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نزول کا لفظ پیدا ہونے کے باوجود تائید سماوی کے لئے اکر اما استعمال ہوا ہے تو اسی طرح مسیح موعود کے لئے نزول کا لفظ آسمانی تائید یافتہ ہونے کی وجہ سے کیوں استعمال نہیں ہو سکتا ؟ چونکہ یہ احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات پر مبنی ہیں اس لئے یہ سب تعبیر طلب ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ امت محمدیہ کے مسیح موعود کو عیسی یا ابن مریم کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مماثلت رکھنے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں اسی وجہ سے اس کے لئے فَأَمَّكُم مِنْكُمْ اور بخاری شریف میں اِمَامُكُمْ منكُمْ اور مسند احمد بن حنبل میں اِمَامًا مَهْدِيَّا حَكَبًا عَدْلًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی یہ ابن مریم تم میں سے تمہارا امام ہوگا اور یہ ابن مریم امام مہدی ہوگا۔پس امت کے امام مہدی ہی کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے عیسی ابن مریم کا نام استعارہ دیا گیا ہے فَاقَكُمْ مِنْكُمْ کے الفاظ مندرجہ صحیح مسلم یعنی ابن مریم تم میں سے تمہارا امام ہوگا اس بات پر صریح الدلالت ہیں کہ ابن مریم سے مراد اسرائیلی مسیح نہیں بلکہ امت محمدیہ کا امام مہدی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک امتی نبی اور خلیفہ کی حیثیت میں حضرت مسیح ابن مریم کا مثیل ہو کر آنے والا تھا۔پس ابن مریم اور عیسی کا نام امام مہدی کو بطور استعارہ دیا گیا ہے۔27