مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 23
حضرت مسیح ابن مریم کے نزول کو ایک امتی فرد کے لئے استعارہ یقین کرتی ہے۔دراصل مودودی صاحب اس بحث سے گریز اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں حیات مسیح ثابت کرنے کی انہیں جرات نہیں۔کیونکہ قرآن مجید کی نص وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (سوره مائده آخری رکوع ) ان کی وفات پر روشن دلیل ہے۔حضرت عیسی علیہ السّلام ان الفاظ میں خدا تعالیٰ کے حضور کہتے ہیں کہ میں اپنی قوم میں اُسوقت تک نگران رہا تھا جب تک ان لوگوں میں موجود رہا لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر ان پر تو ہی نگران تھا۔گویا وہ بتاتے ہیں کہ میری قوم میری موجودگی یعنی علم میں نہیں بگڑی۔میری موجودگی میں انہوں نے مجھے اور میری ماں کو معبود نہیں بنایا۔اگر میری قوم بگڑی ہے تو میری وفات کے بعد بگڑی ہوگی جبکہ میری نگرانی بگی ختم ہو چکی تھی۔چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم بگڑ چکی ہوئی ہے اس لئے حضرت عیسی علیہ السّلام کی وفات اس بیان سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے۔الفاظ كُنت أنتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِم انکی اصالتا دوبارہ آمد کی نفی کرتے ہیں اسی طرح حدیث نبوی میں وارد ہے۔اِن عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ مِائَةَ وَعِشْرِينَ سَنَةً ( کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۱۶۰ وطبرانی) کہ بیشک عیسی بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے۔پس ان کے اس وقت تک یعنی دو ہزار سال تک زندہ ہونے کا خیال ان نصوص کے صریح خلاف ہے۔اور مولوی مودودی صاحب کا ان کو وفات یافتہ فرض کر کے ان کے دوبارہ زندہ کئے جانے کا خیال پیش کرنا بھی ان نصوص قرآنیہ وحدیثیہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے سراسر باطل ہے جو او پر پیش کی جاچکی ہے۔نیز قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَاءَ 23