مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 7
سوال ۲ اب ہمارا سوال ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت اور امام راغب علیہ الرحمتہ کی اس تفسیر کی موجودگی میں کس طرح آیت خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی لے سکتے ہیں۔اس بیان کی روشنی میں تو امتی نبی کی آمد کا امکان روز روشن کی طرف ثابت ہے۔اب مودودی صاحب بتائیں کہ کیا خدا تعالیٰ قیامت کے دن ان کے رسالہ ختم نبوت کا ریکارڈ پیش کرنے پر انہیں اس آیت کے رُو سے ملزم نہیں ٹھہرا سکے گا ؟ (۲) ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ التى " فَمَنِ الفى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (اعراف رکوع ۴) یعنی اے بنی آدم ! جب کبھی آئیندہ تم میں سے تمہارے پاس رسول آئیں گے جو تم پر میری آیات بیان کریں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کر کے اپنی اصلاح کرلیں گے ان پر کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا۔اس آیت کے سیاق میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کو قلی کہہ کر کئی ہدایات دلائی ہیں اور اسی سلسلہ میں تمام نوع انسانی کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آئندہ جب بھی تم میں سے رسول تمہارے پاس آئیں تو تقویٰ اختیار کر کے اصلاح کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔اس سے ایک پہلی آیت میں ہے يُبَنِی آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ كه اے بنی آدم ہر مسجد کے قریب زینت اختیار کرو۔عرب کے لوگ خانہ کعبہ کا ننگے بدن طواف کرتے تھے اس لئے یہ آیت نازل ہوئی۔7