خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 91

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 91 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء جس نے حیرت افزا انقلاب برپا کیا تھا وہی ہمارا آقا محمد تھا جو دلوں کو پاک کرنے اور مذموم اخلاق کی کائنات کو مسمار کر کے ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان بنانے کے لئے دنیا میں آیا تھا۔احول کی بعثت سے قبل بھی عربوں کی فیاضی اور مہمان نوازی کی داستانیں زبان زد خلائق تھیں لیکن ان کے ہر دوسرے خلق کی طرح اس خلق پر بھی نفسانی اور شیطانی رنگ غالب تھا اور اسراف اور بذر اور ریا اور نمود کو تو اپنی نا کبھی میں فیاضی اور مہمان نوازی کا نام دیا کرتے تھے۔کتنے ہی ایسے امراء تھے جو نام ونمود کی خاطر ایک ایک دن میں سینکڑوں اونٹوں اور بھیٹر بکریوں کی گردن پر چھری پھیر دیتے تھے لیکن اکار کا آنے والے یتامیٰ اور مساکین کی قسمت میں ان کے دروازوں پر دھکوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ضرورت مند غربا کے گلوں میں سود درسود کے پھنڈے ڈالنا ان کے جذ بہ فیاضی کے مخالف نہ تھا اور یتامیٰ اور بیوگان کے اموال بے دریغ کھا جانے کے باوجود وہ بندہ پرور کہلاتے تھے۔بڑی بڑی عظیم الشان دعوتوں چھلکتی ہوئی شراب کی بوتلوں اور راگ ورنگ کی شبانہ محافل پر ان کی فیاضی کی ساری داستانیں ختم ہو جاتی تھیں۔اس وقت ان میں وہ مز کی عالم پیدا ہوا جو وحی الہی سے قبل بھی جود وسخا کا ایک حسین پیکر تھا۔جو بنی نوع انسان کو سچی ہمدردی کا ایک قلزم بے کراں اور رحمتوں کا ایک ایسا بحر ذخار تھا جو نام و نمود کی آلائش سے کلیۂ پاک تھا۔اس سے بہتر مہمان نواز کبھی پیدا نہ ہوا تھا اور اس سے زیادہ مصیبت زدگان کی امداد کرنے والا اور کوئی نہ آیا تھا۔وہ مفلسوں اور قلاشوں کا والی ، وہ گردنوں کو چٹیوں سے آزاد کرنے والا ، وہ بے نواؤں اور بے کسوں کا ہمدرد، یتامیٰ اور بیوگان کا والی ، اول اول عرب کی اخلاقی دنیا میں ایک اجنبی کی طرح آیا کیونکہ اس جیسی صفات کا حامل انہوں نے کوئی انسان نہ دیکھا تھا۔اپنے اخلاق کی پاکیزگی ، خلوص، وسعت اور عظمت کے لحاظ سے گویا وہ کسی اور دنیا کا انسان تھا جوان میں ظاہر ہوا۔اول اول وہ ایک اجنبی کی طرح آیا لیکن اس کی عظیم قوت قدسیہ آن کی آن میں اپنے گردو پیش کو متاثر کرنے لگی اور اس کے اخلاق حسنہ ایک طاقت ور برقی رو کی طرح اس کے احساس و قلوب میں سرایت کر گئے تب وہ اخلاقی معجزہ رونما ہوا جو نہ زمانوں میں اپنی کوئی نظیر رکھتا تھانہ جہانوں میں ، فیاضی کے سب قدیم اور بوسیدہ اطوار بدلے گئے اور کریمی نئے قالب میں ڈھالی گئی۔میرے آقا کے نور نے نام و نمود کا کوخس و خاشاک کی کے طرح جلا کر خاکستر کر دیا اور فیاضی نے حیا کی چادر