خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 90
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 90 90 نبی کرم ﷺ کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء دنیا کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اسی حیرت انگیز تبدیلی کا ذکر اپنے منظوم کلام میں یوں فرماتی ہیں: رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیوار میں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خون جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی یوں ماں تیری گھبراتی تھی یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی گویا تو کنکر پتھر تھی احساس نہ تھے جذبات نہ تھے تو ہین وہ اپنی یاد تو کر اتر کے میں بانٹی جاتی تھی وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جاتا ہے تو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے ان ظلموں سے چھڑوا تا ہے بھیج درود اس محسن پر تو دن میں سوسو بار پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار در عدن صفحه ۴، ۲۵) آنحضور ﷺ کی بعثت کے بعد بھی عرب غیرت مندر ہے بلکہ پہلے سے کہیں بڑھ کر غیرت مند ہو گئے لیکن اب اُن کی غیرت سفا کی اور درندگی کی ہر آمیزش سے پاک تھی۔اب وہ معصوم بے دست و پا بچیوں کو اپنی غیرت کا نشانہ نہیں بناتے تھے۔وہ اب بھی غیرت مند بلکہ پہلے سے کہیں بڑھ کر غیرت مند تھے لیکن سنگدلی اب ان میں نام کو باقی نہ رہی تھی اور ان گنت رحمت اور شفقت علی الناس کے چشمے ان پتھروں سے پھوٹ پڑے تھے۔معاشرے کا وہ سنسان اور بے آب و گیاہ صحرا جو کبھی ظالم بھیڑیوں کا مسکن تھا اب سنسان اور بے آب و گیاہ صحرا نہ رہا تھا بلکہ سرسبز اور شاداب سرائیوں میں تبدیل ہو گیا تھا جن میں شفقت اور ایثار اور رحم و کرم کی دائمی نہریں بہتی تھیں۔یہ کون تھا