خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 89

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 89 نی کر نے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء درندگی کہلانے کی زیادہ مستحق تھی۔وہ غیرت کے نام پر ایسے انسانیت سوز مظالم توڑتے تھے کہ اس کی مثال روئے زمین پر نظر نہیں آتی۔عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والے وہ وحشی عورت ہی کو اپنے لئے اس قدر باعث ننگ و عار سمجھتے تھے کہ بہتیرے ان میں سے خود اپنے ہاتھوں اپنی نوزائیدہ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔یہ سفا کی ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے خود آنحضرتﷺ کی خدمت میں اپنی غیرت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری غیر حاضری میں ایک دفعہ میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو بیوی نے اس ڈر سے کہ میں اسے مارنہ دوں مجھے اطلاع بھیجی کہ مردہ بچہ پیدا ہوا ہے۔جب میں سفر سے واپس لوٹا تو اس نے مجھے بتایا کہ میں نے دل بہلانے کے لیے اپنی بہن سے ایک بیٹی مانگ لی ہے چنانچہ وہ بچی میری لاعلمی میں میرے ہاں پلتی رہی اور چار پانچ سال کی ہوگئی۔بہت پیاری بچی تھی ، بہت خوبصورت ، بہت نیک سیرت، اس وقت مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ میری اپنی بچی ہے چنانچہ میں نے سفر پر ساتھ لے جانے کے بہانے اسے تیار کروایا۔وہ اچھے اچھے کپڑے پہن کر میرے ساتھ چل پڑی۔جنگل میں پہنچ کر میں نے ایک گڑھا کھودا اور وہ معصومانہ پوچھتی رہی کہ ابا یہ کیا کر رہے ہو؟ پھر میں نے اسے اس میں لٹا دیا اور وہ محو حیرت مجھ سے میری اس حرکت کے بارے میں سوال کرتی رہی۔پھر میں نے جلد جلد اس پر مٹی ڈالی اور دیر تک مجھے اس کی خوف زدہ روتی ہوئی آوازیں سنائی دیتی رہیں کہ اباتم یہ کیا کر رہے ہو؟ ہائے ابا تم یہ کیا کر رہے ہو؟ یہاں تک کہ مٹی کے ڈھیر تلے وہ خوف زدہ آواز میں ہمیشہ کے لئے دب گئیں اور میری آنکھ نے اس کے اس حال پر ایک بھی آنسو نہ بہایا۔رحمتہ للعالمین نے جب یہ واقعہ سنا تو بے اختیار آپ کی آنکھوں سے رحمت کے سوتے پھوٹ پڑے اور آپ نے فرمایا مَنْ لَمْ يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ ( مقدمہ سنن الدارمی) کہ وہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔عربوں کی یہی وہ سفا کی اور درندگی تھی جسے ان کی اخلاقی پستی نے غیرت کا نام دے رکھا تھا اور یہ وہ ذلیل اور درندہ صفت قوم تھی جسے انسان اور پھر باخدا انسان بنانے کا کام ہمارے آقا کو سونپا گیا۔پھر کیوں نہ دل اس مزکی کی مدح کے گیت گاتے ہوئے پروانہ وار اس کے حسن کا طواف کریں کہ اس نے چند سال کی قلیل مدت ہی میں یہ انہونا کام کر کے دکھایا اور عربوں کی اخلاقی