خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 88
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 88 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۱۶۹ء تو وہ میرے آقامحمد عربیﷺ کے پروردہ غلاموں کے سامنے ہوئی ہے۔آنحضور ﷺ نے عربوں کی بہادری کو جو نئی تخلیق عطا فرمائی اس کا اگر عرب کی جاہلیت کی بہادری سے موازنہ کرنا ہو تو میدان بدر پر بس ایک نگاہ ڈالنا کافی ہے۔ایک طرف عرب کے نامور ایک ہزار سپاہیوں کا وہ لشکر جرار تھا جو سر سے پاؤں تک ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ایک قلیل جماعت کو کچلنے کے لئے شیروں کی طرح بھرتا ہوا آیا تھا ان کے ساتھ رجزیہ اشعار پڑھنے والے شاعر بھی تھے اور مقتولوں کے تذکرے کر کے جوش دلانے والی عورتیں بھی تھیں اور وہ ڈھول پیٹنے والے ماہر فن بھی تھے جن کی ضربوں کی تال پر آواز کا وہ زیروبم پیدا ہوتا تھا جو دلوں کو مرتعش کرتا اور جذبات کو وحشت پر ابھارتا تھا۔ہر طرف سرخ اونٹوں اور مشکیں گھوڑوں کی پیٹھوں پر فخر وتعلّی کا شور بلند ہورہا تھا۔اس لشکر جرار کے مقابل پر وہ تین سو تیرہ (۳۱۳) بہادر نکلے جنہوں نے ہمارے آقا سے بہادری کے جوہر سیکھے تھے۔انہیں اپنی طاقت کا کوئی گھمنڈ اور بڑائی کا کوئی دعوی نہ تھا، وہ تو بجز اور انکساری کا پیکر تھے جن کے نقش خاک میں ملے ہوئے تھے۔ان کی زبانیں فخر و تعلی سے عاری تھیں۔ہاں نعرہ ہائے تکبیر سے وہ وادیوں کے دل دہلا دیا کرتے تھے۔ان میں صحت مند بھی تھے اور بیمار بھی، کمزور بھی اور طاقتور بھی ، بوڑھے بھی اور بچے بھی ، ان میں ایسے بھی تھے جن کے پاس زرہ کا تو کیا سوال بدن ڈھانکنے کو کپڑا تک نہ تھا اور ایسے بھی تھے جن کے ہاتھوں میں ٹوٹی ہوئی تلوار یا محض لکٹری کے ایک ڈنڈے کے سوا کچھ اور نہ تھا۔پھر بھی وہ بے خوف تھے اور ہر پیشانی پر شجاعت، فتح اور کامرانی اور عزم شہادت کی نقوش کندہ تھے۔وہاں بدر کے میدان میں ان دو لشکروں کی ٹکر ہوئی۔عربوں کی فاخرانہ جہالت اور آنحضرت کی پروردہ بسالت کے درمیان ایک زبر دست تصادم ہوا۔وہاں بدر کے میدان میں اس شجاعت میں جو بجز کی پر و درہ تھی فخر اور تعلی کے سر توڑ ڈالے اور غلامان مﷺ نے ملکہ کے جگر گوشوں کے ٹکڑے اڑا دیئے اور بندگان خدا نے ایک ہزار سرداران عرب کو جڑوں سے اکھیٹر پھینکا۔ی تھی وہ شجاعت جو آنحضور کی قوت قدسیہ نے پیدا کی۔ہر کبر ونخوت سے پاک عاجزی میں ڈوبی ہوئی بسالت مضبوط ، محکم اور غیر متزلزل جس سے اگر چٹانیں بھی ٹکرائیں تو حقیر موجوں کی طرح پارہ پارہ ہوجائیں۔عرب ایک غیرت مند قوم مشہور تھے لیکن ان کی غیرت بھی درحقیقت غیرت کی نسبت