خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 87
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 87 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء ڈرتے وہ دن گزارتے تھے اور روتے روتے ان کی راتیں بسر ہوتی تھیں۔حضرت عمر کے آخری لمحات اور آپ کے آخری کلمات سے کون مسلمان بے خبر ہے۔اس جری انسان پر قضاء اللہ کا خوف ایسا غالب ہوا کہ سخت بے چینی اور کرب سے کروٹیں لیتے اپنے رب سے التجا کرتے تھے رَبِّ لَالِى وَلَا عَلَى رَبِّ لَا لِي وَلَا عَلَيَّ ( صحیح بخاری کتاب الا حکام باب الاستخلاف) اے میرے رب! میں اس جان کنی کی حالت میں تجھے سے التجا کرتا ہوں تو مجھ سے حساب نہ فرما۔میں تو خود کہتا ہوں کہ میری نیکیاں ایسی بے حقیقت ہیں گویا ان کا کوئی وجود نہیں۔میری بدیاں بھی تو اپنے بخشش کے پانی سے دھو ڈال حتی کہ ان کا بھی کوئی وجود نہ رہے اور اس تہی دامن بندے کو جو کچھ دینا ہے محض اپنے فضل کے ہاتھ سے دے۔حضرت خالد بن ولیڈ جنہیں خدا کے رسول نے سیف اللہ کا لقب عطا فرمایا بستر مرگ پر پڑے زار زار روتے تھے۔پوچھنے والے نے پوچھا آپ کیوں اس طرح بے تابانہ روتے ہیں؟ تو فرمایا میں جہاد میں اس کثرت سے شریک ہوا ہوں کہ میرے جسم پر ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہیں جس پر میں نے خدا کے نام پر زخم نہ کھائے ہوں۔یہ کہتے کہتے آپ نے روتے ہوئے پیٹھ اور پیٹ پر سے کپڑا اٹھایا کہ دیکھو میرا تو سارا بدن زخموں کے نشانوں سے بھرا پڑا ہے لیکن صد حیف اس کے باوجود مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی اور آج میدان جنگ کی بجائے بستر پر جان دے رہا ہوں۔اگر شہید ہو جاتا تو یقیناً میرے گناہ بخشے جاتے اور جنت میں شمار ہوتا لیکن اب نہیں جانتا کہ مجھ سے کیا سلوک کیا جائے گا۔(تھذیب التھذیب جز ۳ صفحه : ۱۰۷از میر خالد بن ولید بن مغیرہ) ان کے اس خوف کا باعث یقیناً موت نہیں بلکہ مابعد الموت کی وہ زندگی تھی جس میں انہیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا تھا۔موت کا خوف تو در کناران میں ہزار ہا ایسے مردان میدان تھے جو شہادت کی تمنا لئے ہوئے جیتے تھے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب :۴۳) ان میں سے بہتوں نے اپنی امنگوں کو پالیا لیکن بہت سے ایسے بھی رہ گئے جو اس آرزو اور انتظار میں عمر بھر جیا گئے یہاں تک کہ لَا لِی وَلَا عَلَی کی سخت در ناک آہ و پکار نے انہیں وصال یار کا پیغام پہنچایا۔موت کا خوف تو در کنار وہ بسا اوقات ظاہری موت یعنی ابدی زندگی کی طرف اس طرح لپکتے تھے جیسا پیاسا پانی کی طرف دوڑتا ہے۔زمانہ شاہد ہے کہ موت کبھی کسی قوم کے سامنے اگر ذلیل وخوار ہوئی ہے